نیب کا رخ حکومت کی طرف ہوگیا، کرپشن کا انتہائی سنگین الزام لگ گیا

پشاور، اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) نیب کا رخ اپوزیشن کے بعد حکومت کی طرف بھی ہوگیا اور بلین ٹری سونامی منصوبے سے جڑے کیسز پر انکوائریز اور انویسٹی گیشن کا آغاز کردیا گیا ہے ، بلین ٹری سونامی کی 4 انویسٹی گیشنز میں 45 کروڑ روپے کی کرپشن کا انکشاف ہوا ہے ۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کا کہنا ہے کہ نیب خیبرپختونخوا کی طرف سے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے شجرکاری منصوبے بلین ٹری سونامی منصوبے میں نیب نے 10 انکوائریز اور انویسٹی گیشنز کا آغاز کردیا ہے ، بلین ٹری سونامی منصوبے میں کرپشن، بدانتظامی، بےضابطگی پر تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔ بتایا گیا ہے کہ ڈویژنل فارسٹ افسران ڈیرہ اسماعیل خان کیخلاف تحقیقات جاری ہیں، بلین ٹری سونامی کے 36 فیصد ہدف میں ناکامی پر بھی تحقیقات ہوئیں، 226 نرسری پلانٹس کی بندش سے خزانے کو کروڑوں کا نقصان پہنچا۔
نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ بلین ٹری سونامی منصوبے کے لئے 9 روپے قیمت والے پودے کی 17 روپے میں خریداری کیے جانے کی شکایات ہیں، اس کے ساتھ ساتھ منصوبے کا 36 فیصد ہدف حاصل کرنے میں ناکامی کی بھی تحقیقات کی جائیں گی، اس منصوبے کی وجہ سے 226 چھوٹے نرسری پلانٹس بند ہونے سے خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچایا گیا جبکہ ٹھیکیداروں اور ورکرز کو کروڑوں روپے کی ادائیگی میں بھی بدعنوانی کی تحقیقات ہوں گی۔نیب ذرائع کے مطابق بلین ٹری سونامی منصوبے کا زیادہ تر ریکارڈ غائب کر دیا گیا، جس پر محکمہ جنگلات اور محکمہ جنگلی حیات کے افسران کے خلاف بھی تحقیقات ہوں گی۔

یہ خبربھی پڑھیں

عمران خان ہمیں جلسے کرنے کی اجازت دیں ، ہم ان کو بتائیں گے کہ جلسے جلوس کیا ہوتے ہیں ، خرم شیر زمان

کراچی (ڈیلی پاکستان آن لائن)پی ٹی آئی کے رہنما اوررکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان …